میں ہمیشہ سے ایک ٹائم مشین میں بیٹھنا چاہتی ہوں۔ جس پر سوار ہوکر میں پچھلے زمانوں میں قدم رکھ سکوں۔
جہاں دادی ، ابو کے پڑھنے کو لالٹین میں تیل ڈلوانے جاتی تھیں۔
جہاں امی لمبی گُت بنا کر ، سرخ و سفید چہرا دھو کر سلائی کڑھائی سیکھنے بیٹھا کرتیں.
دیکھوں وہ دوپہر جب نانی اماں مکھن کا پیڑا بھر بھر پیالوں میں رکھتی تھیں اور جس لمحے دادا نے چاندی کے گلاس پر جام دے یا جواب دے ساقی لکھا تھا۔یہ بھی دیکھ سکوں جب پردیس کا ایک خط سارا خاندان بھینس کی کھرلی کے کنارے بیٹھے محبت و عقیدت سے سنا کرتا تھا۔اور جب بابا شیر محمد جاڑے کی لمبی راتوں میں بیٹھ کر بچوں کو موسیٰ اور ابراہیم کے قصے سون سکیسری زبان میں سنایا کرتے تھے۔ دو چیزیں ہیں ، اک آسمانی اک زمینی ۔۔۔۔
جن چیزوں نے میرے اس شوق کو بہت حدوں تک تکمیل دی ہے۔
اک قرآن ، جس کو پڑھنا پشمینے کی شال اوڑھے ، چپکے سے زمانوں میں گزر جانے جیسا ہے۔ان زمانوں میں ، مجھے بھی سب پہچانتے ہیں کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جو ہر زمانے کے انسان کے نفس کی روشنی و اندھیرے پر بات کرتی ہے۔یہ ہر زمانے کی نیکی اور ہر زمانے کے شر کی تفصیل کو مکمل سمیٹتی ہے۔
یہ ہزاروں سال پرانی لکھت trauma , grief , healing, therapy اور existential crisis تک پر بات کرتی ہے پڑھنے والے !
دوسری شے حساسیت ہے!
یہ میری روح کی خاص و خالص فطرت جس پر مجھے ڈانٹا ، ڈرایا گیا۔یہ حساسیت میرے قلب کا گہنا !
مجھے سب سے زیادہ میری حساسیت پر ٹوکا گیا ہے۔جب کوئی ٹوکتا ہے تو پھر ہم لحظ بھر سیلف ڈاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ لحظہ کئی سالوں پر محیط ہوتا ہے۔ میں بھی اس کا شکار رہی ہوں۔
لیکن یہ حساسیت ایسی باریک ہنر کاری ہے جو مجھے پچھلے وقتوں تک لے جاتی ہے۔ یہ تخیل و تقدیر کے ایسے نازک مرحلوں سے منسلک ہے کہ میں ماں کے خوابوں اور باپ کی محنتوں کے دور اور دوپہروں کی سیر کر آتی ہوں۔
کیوں نا پھر اسے ڈائریکشن دی جائے !
یہ حساسیت ہی ہے جس سے مجھے حال میں اچھے سے رہنا آیا۔
میرے سامنے بیٹھتی ہیں وہ عورتیں جنہیں کسی منت کے لیے دس عورتوں کی کہانیاں پڑھا کر ، کچھ میٹھا بانٹ کر لگنے لگتا ہے سب اچھا ہونے کو ہے۔
میں ان کے عقیدوں کو محبت سے دیکھ سکتی ہوں اور مجھے معصوم لگتے ہیں انسان جو کبھی دھاگوں ، کبھی چاشنیوں ، کبھی مزاروں پر کسے پکارتے ہیں سوائے ایک اللہ کے! سب کے راستے مختلف ہیں اور جاتے اسی کو ہیں۔ یہ حساسیت کا تحفہ ہی ہے کہ میں صبر سے اسے پہچان پاتی ہوں۔
میرے سامنے کچے زخموں والی مائیں جو بمشکل پیر اٹھاتی ہیں ، تھکے اجسام اور پرجوش نگاہوں سے اپنے بچے کو دیکھتی ہیں، ایک روح کی حفاظت کے لیے نیندیں قربان کرتی ہیں۔یہ حساسیت ہی ہے جس کی وجہ سے میں ان کے زخم دیکھ پاتی ہوں۔
پالنوں میں جھولتی ننھی جانیں ، جن کو ھو کی لوری سنا کر نیند پر مائل کیا جاتا ہے ، یہی ھو اک بار زندگی میں نیندوں سے جگا دے گا ۔۔۔ یہ لا الہ الا اللہ کی لوری میں کیسے سیکھ پاتی اور جان پاتی کہ ماں محاذوں پر تکبیر کے نعرے لگانے والوں کی صف میں کہیں کھڑی ہے جبکہ گھر میں بیٹھی ہے۔ یہ دو مختلف مقامات کو دیکھ پانا ، حساسیت نے میری بینائی بدلی۔
قاہرہ تک نہیں جاسکی میں ، نہ لاہور کی پرانی حویلیوں کے نقش دیکھ کر تاریخ میں ٹریول کر سکی ہوں ، میں یہیں گاؤں میں سالن بھونتی عورتوں کے پاس بیٹھی ہوں تو میں نے وقت کے سفر کیے ہیں۔ وہ الرزاق کے رزق کو ذائقے میں تعمیر کرنے والیاں مسکراتی نگاہوں سے اپنی کم مائیگی کے بول بولتی ہیں تو میں دیکھتی ہوں کیسے چوڑیوں بھرے ہاتھ چن چھن کرکے گندم کے دانے کو خوشبو بھری خستہ روٹیوں میں بدلتے ہیں ، انسیت کی آنچ پر جب وہ روٹیاں سینکتی ہیں ، مجھے کہہ بھی دو کہ مجھ پر کائنات پوری طرح عیاں نہیں ہوئی تو یہ کس پر عیاں ہوتی ہیں ؟ مگر اتنی بھی کہ میں ایک کائنات کی سیر کرلیتی ہوں جب چولہوں کے گرد بیٹھی محبت کو تکتی ہوں۔
ایک مکمل لمحے میں کسی ایک انسان کو محبت میں مبتلا دیکھنا ، پوری کائنات دیکھنے جیسا ہے۔
یہ حساسیت ۔۔۔۔ یہ کائنات کے ہر پنکھ پروانے ، پیڑ ، پتے کو گہری تفصیل سے دیکھ پانا ، رنج و مسرت دونوں کا ساماں کرتا ہے۔میں پھر صرف رنج سے ڈر کر کیوں وہ نعمتیں واپس لوٹا دوں جو اس نے میرے دل کی آبیاری کو اتاری ہے۔یہ حساسیت دکھ کو ملال میں بہت جلدی بدلتی ہے تو ملال کو مسرت میں بدلنے میں بھی دیر نہیں لگاتی ۔۔ اور جلدی کسے ہے ؟ آخرک کو تو گھر ہی لوٹ جانا ہے۔
مجھے صفر سے شروع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ،جب موسیٰ ڈرے تھے تو وہ ڈرے تھے۔۔۔۔ اور پلٹ کر نہ دیکھا تھا !
جب ان کا سینہ بھینچتا تھا اور زبان کو گرہ سی لگتی تھی تو انہوں نے یہ ایکسپٹ کیا تھا ! میرے تو استاد ایسے ہی ہیں جو اپنی کمزوریوں کو سمجھتے ، پہچانتے اور پھر ان کو درست سمت دینے کی دعا کرتے ہیں۔۔۔
تو مجھے دعا دو کہ میں اسے خیر پر معمور کرسکوں !
میں اپنی حساسیت نہ چھوڑوں کہ پھر میں کیا ہوں سوائے ایک سرد وجود جو گاؤں کی کسی دیگر ویلے ساکت پڑا ہوگا !
میری حساسیت تو مجھے اس خوشبو سے محبت میں مبتلا رکھتی ہے جو میری قبر کے سرہانے آئے گی !
جو جگہ میں نے اپنے لیے منتخب کی ہے یوں قبر کی ٹھنڈی خوشبو بھری مٹی سر پر بوگن ویلیا کے پھول ، تھوڑی جھومتی چنبیلی کی بیل ، میں اور مٹی ۔۔۔۔۔۔ نہیں ! میں اور میرا رب !
حساسیت پر مجھے مت ٹوکو ! یہ کچھ دیر کا سرمایہ ہے۔
گاؤں کی کسی زمیں میں ایک دن میں اپنی حساسیت سمیت اتر جاؤں گی ،نہیں آؤں گی
کون لاہور سے ایسا عشق کرے گا کہ ایسا بھی کیا خاص ہے اک عام سے شہر میں.
کون ٹھنڈی خوشبو والے گجروں کو دور سے دیکھے گا جبکہ زیور تو پتھروں سے بنتے ہیں.
کون سُرک سُرک کے ادرک کے قہوے پئیے گا اور کہے گا مولا تیری شان !
کون خود کو تتلیوں سے استعارہ دے گا کہ وہ خود اپنے رنگوں سے ناواقف بہت کم عمر میں مر جاتی ہیں۔
کون خدا کی زمین پر جھاڑو پھیرنے کو بخت کی بلندی کہے گا اور جھوم جائے گا کہ کیا اعزاز ہے یہ
کون رویا کرے گا چھوٹی چھوٹی باتوں پر جبکہ رونا تو اس پر نہیں بنتا تھا
کون ہنس دیا کرے گا آنکھیں بھر بھر کے
جبکہ اتنی تو ہنسنے کی کوئی بات نہ تھی۔۔۔۔۔
پڑھنے والی آنکھ مسکرائے.
0 Comments