مرد شادی کیوں کرتے ہیں؟

 




مرد شادی کیوں کرتے ہیں؟


– ایک سوال جو اکثر میرے ذہن میں آتا ہے

عورت شادی کرتی ہے کیونکہ وہ نازک ہوتی ہے، اسے سہارا دینے والا چاہیے، اور اس میں ماں بننے کی فطری جبلت ہوتی ہے، جو شادی کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔
یہ سچ ہے کہ شادی کے بعد اسے کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں، مگر شروعات میں شادی اس کے لیے ایک نعمت اور کامیابی محسوس ہوتی ہے۔
لیکن اگر ہم منطقی طور پر دیکھیں تو مرد کے لیے شادی مالی نقصان اور ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اسے شادی کے لیے بھاری مالی اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔
پھر شادی کے بعد بیوی اور بچوں کی کفالت اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
اسے ان کی ضروریات کو اپنی خواہشات پر فوقیت دینی پڑتی ہے۔
اس کی آزادی کا ایک بڑا حصہ محدود ہو جاتا ہے۔
اگر ہم مذہبی، سماجی اور روایتی وجوہات کو ایک طرف رکھ دیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے:
مرد اتنی بڑی قربانی کیوں دیتا ہے؟
ضرور کوئی ایسی وجہ ہونی چاہیے جو اس قربانی کے برابر ہو۔
اور وہ وجہ صرف ایک ہے، مگر بہت گہری ہے:
"سکون اور تکمیل کی خواہش"
مرد کا لاشعور اس بات کو جانتا ہے کہ اس کی ذات کا ایک حصہ نامکمل ہے۔
اس کے اندر ایک بےچینی، اضطراب اور انتشار موجود ہوتا ہے، اور اسے ایک ایسے ٹھکانے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ سکون پا سکے، جہاں وہ اپنا بوجھ اتار سکے، جہاں وہ خود کو مکمل محسوس کرے۔
مرد کو ایک ایسا "گھر" چاہیے جہاں وہ لوٹ کر جا سکے، ایک ایسا کنارہ جہاں وہ لنگر انداز ہو سکے، ایک ایسا ملاذ جہاں وہ بے فکری سے رہ سکے۔
یہ وہ سکون ہے جو نہ ماں کی محبت دے سکتی ہے، نہ باپ کی شفقت اور نہ دوستوں کا ساتھ۔
یہ ضرورت صرف اور صرف بیوی پوری کر سکتی ہے، کیونکہ وہ واحد ہستی ہے جس کے سامنے مرد ہر لحاظ سے خود کو بے نقاب کر سکتا ہے،
اور وہی اس کا پردہ، اس کا سہارا، اور اس کے زخموں کی دوا بنتی ہے۔
یہ ایک غیر منطقی مگر فطری جذبہ ہے، جو اللہ نے مرد کے اندر رکھا ہے تاکہ زندگی کا تسلسل برقرار رہے۔
اسی لیے قرآن نے شادی کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے اور ہمیں اس پر غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے:
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں" (سورہ الروم: 21)
پس، شادی محض ایک معاہدہ یا ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس رشتہ ہے، ایک فطری ضرورت ہے، اور مرد و عورت کے درمیان وہ ربط ہے جو انہیں روحانی اور نفسیاتی طور پر مکمل کر دیتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments