'دی ریڈ ٹرٹل'(The Red Turtle)
ایک خاموش مگر گہری داستان ....
بعض فلمیں ایسی ہوتی ہیں جو دیکھنے والے کو حیران کر دیتی ہیں، ان میں کوئی الفاظ نہیں ہوتے، کوئی لمبے مکالمے نہیں، مگر پھر بھی وہ سیدھا دل میں جا اترتی ہیں۔ 'دی ریڈ ٹرٹل' بھی ایسی ہی ایک فلم ہے۔ بے حد خاموش، مگر اتنی گہری کہ دیکھنے والا اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔
یہ فلم 2016 میں ریلیز ہوئی اور اسے ایک فرانسیسی-جاپانی مشترکہ پروڈکشن کے طور پر تخلیق کیا گیا۔ اس کا ہدایتکار مائیکل ڈڈوک ڈی وٹ ہے، جو اینیمیشن کے میدان میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اسٹوڈیو گھِبلی، جو جاپان کا سب سے مشہور اینیمیشن اسٹوڈیو ہے، اس فلم کی پروڈکشن میں شامل تھا۔ گھِبلی کی یہ پہلی فلم تھی جسے کسی غیر جاپانی ہدایتکار نے بنایا، اور اس نے بہترین اینیمیٹڈ فیچر فلم کے طور پر آسکر نامزدگی بھی حاصل کی۔
کہانی ایک نامعلوم شخص کے ساتھ شروع ہوتی ہے، جو ایک خوفناک طوفان کے بعد سمندر میں تنہا بہتا ہوا ایک جزیرے پر آن پہنچتا ہے۔ یہ جزیرہ بظاہر حسین ہے، مگر حقیقت میں ایک کھلی جیل کی مانند، جہاں وہ قید ہو چکا ہے۔ وہ یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے، لکڑی کی ایک عارضی کشتی بناتا ہے، مگر ہر بار جب وہ سمندر میں نکلنے کی کوشش کرتا ہے، کچھ اسکی کشتی سے ٹکراتا ہے اور کشتی تباہ کر دیتا ہے یہ شخص سمندر میں چھلانگ لگا کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسکو کچھ بھی نظر نہیں آتا، کئی بار کشتی بنا کر نکلنے کی کوشش کرنے پر بھی وہ کچھ وہ نکل نہیں پاتا مگر کشتی ہر بار ٹوٹ جاتی اور اور وہ اسکی وجہ بھی تلاش نہیں کرپاتا..
جزیرے پر طویل تنہائی، مایوسی اور بقا کی جدوجہد کے بعد، آدمی ایک بار پھر بچاؤ کشتی تیار کرتا ہے، مگر جیسے ہی وہ سمندر میں نکلتا ہے، ایک بڑا سرخ کچھوا اس کی کشتی کو توڑ دیتا ہے، جس سے وہ دوبارہ ساحل پر لوٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر اس بار کچھوا اس کے ساتھ ہی ساحل پر آ جاتا ہے نامعلوم شخص غصے میں کچھوے پر حملہ کرتا ہے اس کے سر پر لکڑی سے وار کرتا ہے اور اسے الٹا کرکے ریت پر چھوڑ دیتا ہے۔ کچھوا بے حرکت پڑا رہتا ہے، جیسے زندگی اس میں باقی نہ رہی ہو۔
وقت گزرنے کے ساتھ، آدمی کے دل میں ندامت کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ کچھوے کے قریب جاتا ہے، اسے پانی میں واپس لے جانے کی کوشش کرتا ہے، وہ اسکو پانی پلانے کی کوشش کرتا ہے مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر ایک غیر متوقع واقعہ پیش آتا ہے—کچھوے کا سخت خول آہستہ آہستہ چٹخنے لگتا ہے، اور اچانک اس کے اندر سے ایک خوبصورت عورت نمودار ہوتی ہے۔
یہ منظر کسی خواب کی مانند ہے، حقیقت اور جادو کے درمیان معلق۔ آدمی پہلے حیران ہوتا ہے، مگر جلد ہی وہ اس عورت کو اپنا ساتھی سمجھنے لگتا ہے۔ عورت جزیرے پر اس کے ساتھ رہنے لگتی ہے، دونوں کے درمیان کوئی الفاظ نہیں ہوتے، مگر ایک خاموشی بھری ہم آہنگی قائم ہو جاتی ہے۔ وہ مل کر زندگی گزارتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات اور خیالات کو بنا کچھ کہے سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ تبدیلی نہ صرف آدمی کی کہانی کا ایک نیا موڑ ہے بلکہ یہ اس کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا ایک استعارہ بھی ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھے بغیر بھی سمجھنے لگتے ہیں، اور پھر ان کا ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے، جو زمین اور سمندر کے درمیان پل کی مانند ہوتا ہے—نہ مکمل طور پر انسان، نہ مکمل طور پر مچھلی، بلکہ دونوں دنیاوں سے جڑا ہوا۔
زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے، جزیرے پر وقت کا گزر محسوس نہیں ہوتا، مگر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ لڑکا جوان ہو کر سمندر کی طرف مائل ہونے لگتا ہے، جیسے اسے ہمیشہ سے پانی کی طرف کھینچا جا رہا ہو۔ ایک دن، وہ سب کچھ چھوڑ کر کچھووں کے ساتھ بہہ کر ایک نئی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ ماں اور باپ اسے جاتا دیکھتے ہیں، مگر کوئی دکھ یا افسوس محسوس نہیں کرتے، کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہی زندگی کا قانون ہے—سب کو ایک دن جانا ہوتا ہے، اور کسی کا روکنا ممکن نہیں۔
یہ فلم شاید اس لیے اتنی متاثر کن ہے کہ ہر شخص اس میں اپنی زندگی کا عکس دیکھ سکتا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے جزیروں پر پھنسے ہوئے ہیں، کچھ رشتے ہمیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ ہمارے ساتھ چلتے ہیں، اور کچھ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے مجبور کر دیتے ہیں۔ 'دی ریڈ ٹرٹل' ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش بیکار ہے، کیونکہ فطرت کا اپنا ایک بہاؤ ہوتا ہے، جس کے ساتھ چلنا ہی اصل سکون ہے۔
اس فلم کی اینیمیشن بے حد سادہ مگر انتہائی خوبصورت ہے، ہر سین جیسے کسی پینٹنگ کا حصہ ہو۔ رنگوں کا انتخاب، جزیرے کے حسین مناظر، اور روشنی کا نرم استعمال فلم کو ایک شاعرانہ احساس دیتا ہے۔ موسیقی بھی کم از کم مگر جذباتی ہے، جو فلم کی خاموشی کو مزید معنی خیز بنا دیتی ہے۔
یہ فلم دیکھنے کے بعد دیر تک دل میں گونجتی رہتی ہے، جیسے کوئی پرانی یاد یا کوئی ادھورا خواب، جو مکمل تو نہیں مگر ہمیشہ کے لیے ذہن میں محفوظ رہ جاتا ہے۔ اگر آپ نے 'دی ریڈ ٹرٹل' نہیں دیکھی، تو آپ نے اینیمیشن سینما کے ایک ایسے شاہکار کو محسوس کرنے کا موقع کھو دیا، جو لفظوں کے بغیر بھی زندگی کے سب سے بڑے فلسفے بیان کر دیتا ہے۔



0 Comments